27 ستمبر 2026 - 16:30
عراق میں ایرانی پروازوں پر پابندی؛ شیعہ سیاسی گروہوں کے رابطہ فریم ورک کا اجلاس

عراق کے شیعہ سیاسی گروہوں کے رابطہ فریم ورک کا اجلاس آج رات منعقد ہوگا، جس میں ایرانی طیاروں کو عراق کے ہوائی اڈوں پر اترنے سے روکنے کے فیصلے اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس فیصلے پر گزشتہ دنوں عراقی علما اور اہم شخصیات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایک باخبر سیاسی ذریعے نے بتایا ہے کہ عراق کے رابطہ فریم ورک کے سربراہان آج رات عراقی وزیراعظم علی الزیدی کی موجودگی میں اجلاس کریں گے، جس میں عراق کے تمام ہوائی اڈوں پر ایرانی طیاروں کی لینڈنگ پر پابندی کے فیصلے اور اس کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اس ذریعے کے مطابق اجلاس میں عراقی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے جواز اور وجوہات، بغداد اور تہران کے تعلقات پر اس کے اثرات، ایرانی پروازوں کی بندش کے بعد سامنے آنے والے سیاسی اور عوامی ردعمل، اور سیاسی و سفارتی ذرائع سے اس فیصلے کے اثرات کو قابو کرنے اور کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ رابطہ فریم ورک کے سربراہان بعض سیاسی، عوامی اور مسلح گروہوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت اور اس پابندی کے جاری رہنے کے ممکنہ نتائج پر بھی گفتگو کریں گے۔ ان میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ یا عوامی احتجاج اور سرگرمیوں کا آغاز بھی شامل ہے۔ اس اجلاس کا مقصد آئندہ مرحلے میں اس معاملے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر ایک متفقہ مؤقف تک پہنچنے کی کوشش کرنا ہے۔

اس ذریعے کے مطابق اجلاس میں یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا رابطہ فریم ورک کے سربراہان موجودہ اقدامات جاری رکھنے کی حمایت کریں گے یا عراق کے مفادات اور اس فیصلے کے ملکی ہوابازی کے شعبے اور ہوائی اڈوں پر پڑنے والے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی راستہ اختیار کریں گے۔

اس فیصلے پر گزشتہ دنوں عراقی علما اور اہم شخصیات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ عراق کے دینی مرجع آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی کے دفتر نے فضائی حدود بند کرنے اور مقدس مقامات کے زائرین کے لیے مشکلات پیدا کرنے کو ’’عراقی حکومت کے لیے نامناسب پالیسی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

عراق کی مجلس علمائے رباط محمدی کے سربراہ سید عبدالقادر الحسنی الوسی نے بھی اس فیصلے کو ’’تاریخی غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عراق کی دینی شناخت کو نقصان پہنچتا ہے۔

الانبار اتحاد کے رہنماؤں میں شامل عبدالستار الصالحی نے بھی امریکی دباؤ کے باعث ایران اور عراق کے درمیان فضائی آمدورفت پر پابندیاں عائد کیے جانے پر تنقید کی۔

اس کے علاوہ نجف کے حوزہ علمیہ کے درجنوں اساتذہ اور طلبہ نے بھی اس فیصلے کے خلاف احتجاجی اجتماع کیا اور اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

عراقی شہریوں نے بھی بغداد اور بصرہ سمیت مختلف صوبوں میں مظاہرے کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پروازیں دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha